6 فروری 2014 - 20:30
حمص، عام شہریوں کے انخلا کے لیے حکومت شام اور اقوام متحدہ کے درمیان معاہدہ

شام کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حمص میں غیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے زیر تسلط علاقوں میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کے انخلا کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ابنا: شامی وزارت خارجہ کے مطابق حمص کے گورنر اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کے تحت خواتین، بچوں، بوڑھے افراد اور زخمیوں کو شہر سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔

حمص میں پرانے شہر کے کچھ حصوں میں کہ جن پر غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے عام شہری پھنسے ہوئے ہیں جنہیں دہشت گرد انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، گزشتہ کئی مہینوں سے ان علاقوں کا شامی فوج نے محاصرہ کیا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ نے انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کے ترجمان فرحان خان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کی ساتھی تنظیموں نے شہر کے باہر ہی امدادی سامان رکھا ہوا تھا تاکہ اجازت ملتے ہی سامان فوری طور پر متاثرین تک پہنچایا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق، جمعہ کو لوگوں کا انخلا ممکن ہو سکے گا اور اگلے روز باقی عام شہریوں کے لیے امدادی سامان لے جایا جا سکے گا۔

غور طلب ہے کہ گذشتہ ماہ جنیوا میں شامی حکومت اور اس کے مخالف گروہوں کے درمیان ہوئے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔

سنہ 2011، سے شام میں جاری حکومت مخالف تشدد اور لڑائی میں کہ جسمیں غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح باغی اور القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروہ ملوث ہیں، اب تک 130،000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ 95 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

اس کے علاوہ شامی حکومت نے امریکہ کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کیمیائی ہتھیار ہٹانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

امریکہ کے نائب سیکریٹری دفاع انڈریو ویبر نے شام پر یہ الزام عائد کیا تھا، جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکورٹی مسائل کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں تاخیر کی اصلی وجہ ہے۔

.......

/169